بہانہ
میں نے کب کہا تھا
کہ مجھ سے تم کو پیار ہو
بس اک خواہش ناتواں سی تھی
کہ ہر بات پہ تم سے تکرار ہو
تم روٹھو اور مجھے تم کو
منانے کا خمار ہو
جیسے دور کسی تپتے ہوئےصحرا کو
مینہ کے برسنےکا انتظار ہو
جب تم منو تو مجھ کو
روٹھ جانے کا اختیار ہو
جیسے پھول
خوشبو سے مشکبار ہو
جب تم ہنسو
تو مجھ کو بھی قرار ہو
جیسے گونجتی ہوئی کوئی شہنائی
خوشی سے بے قرار ہو
جب تم روؤ
تو آنکھ یہ اشکبار ہو
جیسے پروانہ
شمع کا غم گسار ہو
جب تم میرے پاس نہ ہو
تو مکاں کوئی جیسے
بلا در و دیوار ہو
جیسے بن مسجد کے
کوئی مینار ہو
تیرے لمس کا جسم کو وہ پاس ہو
کہ تیرے ہونے کا مجھ کو احساس ہو
جب تم مجھ سے بچھڑو تو
تیرے ہجر کے زخم سے
یہ سینہ تار تار ہو
میرے دل پہ وہ گھاؤ ہو
جیسے چکور کا
چندا سے لگاؤ ہو
تیرا مجھ پہ وہ یقیں ہو
کہ تو آنکھیں بند بھی کرے تو
تیری چاہتوں کا مجھ پہ بار ہو
جیسے تاریکیء شب میں کسی مسافر کو
اجالاء صبح کا اعتبار ہو
میرے جذبات کا جو بھی ترانہ ہو
بس تیری چاہ کا اس میں فسانہ ہو
تو مجھ سے پیار کرے، نہ کرے
مگر
میرے پیار کا کوئی تو بہانہ ہو
میں نے کب کہا تھا
کہ مجھ سے تم کو پیار ہو
بس اک خواہش ناتواں سی تھی
کہ ہر بات پہ تم سے تکرار ہو
تم روٹھو اور مجھے تم کو
منانے کا خمار ہو
جیسے دور کسی تپتے ہوئےصحرا کو
مینہ کے برسنےکا انتظار ہو
جب تم منو تو مجھ کو
روٹھ جانے کا اختیار ہو
جیسے پھول
خوشبو سے مشکبار ہو
جب تم ہنسو
تو مجھ کو بھی قرار ہو
جیسے گونجتی ہوئی کوئی شہنائی
خوشی سے بے قرار ہو
جب تم روؤ
تو آنکھ یہ اشکبار ہو
جیسے پروانہ
شمع کا غم گسار ہو
جب تم میرے پاس نہ ہو
تو مکاں کوئی جیسے
بلا در و دیوار ہو
جیسے بن مسجد کے
کوئی مینار ہو
تیرے لمس کا جسم کو وہ پاس ہو
کہ تیرے ہونے کا مجھ کو احساس ہو
جب تم مجھ سے بچھڑو تو
تیرے ہجر کے زخم سے
یہ سینہ تار تار ہو
میرے دل پہ وہ گھاؤ ہو
جیسے چکور کا
چندا سے لگاؤ ہو
تیرا مجھ پہ وہ یقیں ہو
کہ تو آنکھیں بند بھی کرے تو
تیری چاہتوں کا مجھ پہ بار ہو
جیسے تاریکیء شب میں کسی مسافر کو
اجالاء صبح کا اعتبار ہو
میرے جذبات کا جو بھی ترانہ ہو
بس تیری چاہ کا اس میں فسانہ ہو
تو مجھ سے پیار کرے، نہ کرے
مگر
میرے پیار کا کوئی تو بہانہ ہو






