Bismillah
بسم اللہ
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے
“ہر وہ اہم کام جسے بسم اللہ سے شروع نہ کیا گیا ہو وہ ناقص اور ادھورا ہے “
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنّت یہ ہے کہ ہر قابلِ ذکر کام سے پہلےبسم اللہ ضرور پڑھا کرتے تھے۔ ہر کام کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ گھر میں داخل ہوتے وقت ، گھر سے نکلتے وقت ،سواری پر سوار ہوتے وقت، اترتے وقت، کھانا کھاتے ہوئے، پانی پیتے ہوئے،کپڑے پہنتے ہوئے ،غرض ہر ہر تبدیل شدہ حالت پر بسم اللہ شروع کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے ۔
اپنے روز مرّہ کے کاموں کو بسم اللہ سے شروع کرنا اپنے معمولات میں شامل کر لیا جائے تو یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں محنت اور دشواری کچھ نہیں بلکہ انسان کے نامہ اعمال میں نیکیوں کا مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس عمل کی برکت سے یہ سارے کام جو بظاہر دنیاوی نظر آتے ہیں بذاتِ خود عبادت بن جاتے ہیں ۔ ایک کافر بھی دنیا کے کام انجام دیتا ہے ، اور مومن بھی ، لیکن دونوں میں زبردست فرق ہے کہ کافر غفلت کی حالت میں یہ سب کام کرتا ہے اور مومن بسم اللہ سے ہر کام کا آغاز کر کے گویا اس بات کا اعتراف کرتا ہے اللہ تعالی کی توفیق کے بغیر کسی کام کی تکمیل ممکن نہیں ۔ اس اعتراف کے نتیجے میں اس کے دنیا کے سارے کام عبادت بن جاتے ہیں ۔[/b]
بسم اللہ
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے
“ہر وہ اہم کام جسے بسم اللہ سے شروع نہ کیا گیا ہو وہ ناقص اور ادھورا ہے “
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنّت یہ ہے کہ ہر قابلِ ذکر کام سے پہلےبسم اللہ ضرور پڑھا کرتے تھے۔ ہر کام کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ گھر میں داخل ہوتے وقت ، گھر سے نکلتے وقت ،سواری پر سوار ہوتے وقت، اترتے وقت، کھانا کھاتے ہوئے، پانی پیتے ہوئے،کپڑے پہنتے ہوئے ،غرض ہر ہر تبدیل شدہ حالت پر بسم اللہ شروع کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے ۔
اپنے روز مرّہ کے کاموں کو بسم اللہ سے شروع کرنا اپنے معمولات میں شامل کر لیا جائے تو یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں محنت اور دشواری کچھ نہیں بلکہ انسان کے نامہ اعمال میں نیکیوں کا مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس عمل کی برکت سے یہ سارے کام جو بظاہر دنیاوی نظر آتے ہیں بذاتِ خود عبادت بن جاتے ہیں ۔ ایک کافر بھی دنیا کے کام انجام دیتا ہے ، اور مومن بھی ، لیکن دونوں میں زبردست فرق ہے کہ کافر غفلت کی حالت میں یہ سب کام کرتا ہے اور مومن بسم اللہ سے ہر کام کا آغاز کر کے گویا اس بات کا اعتراف کرتا ہے اللہ تعالی کی توفیق کے بغیر کسی کام کی تکمیل ممکن نہیں ۔ اس اعتراف کے نتیجے میں اس کے دنیا کے سارے کام عبادت بن جاتے ہیں ۔[/b]





