شاہین فصیحؔ ربانی
غزل
(نذرِ میر)
سرخرُو اس جہاں سے اُٹھتا ہے
جو صدائے اذاں سے اُٹھتا ہے
جب درِ مہوشاں سے اُٹھتا ہے
چین دل کے جہاں سے اُٹھتا ہے
دل کی اب راکھ بھی نہیں باقی
"یہ دھواں سا کہاں سے اُٹھتاہے"
خواب دیتے ہیں جب کبھی مہمیز
ولولہ قلب و جاں سے اُٹھتا ہے
تو نے بخشا ہے جو مقام اسے
آئنہ کب وہاں سے اُٹھتا ہے
بات سنتے نہ بات کہتے ہیں
دل ہی کوئے بتاں سے اُٹھتا ہے
دھیان آتے ہی اس پری وش کا
درد کیوں جسم و جاں سے اُٹھتا ہے
مہرباں ہے کہ پیار ہے مجھ سے
پردہ رازِ نہاں سے اُٹھتا ہے
جس کی خاموشیاں قیامت ہوں
حشر اس کے بیاں سے اُٹھتا ہے
دل پہ لے کر گلاب زخم فصیحؔ
محفلِ دوستاں سے اُٹھتا ہے
غزل
(نذرِ میر)
سرخرُو اس جہاں سے اُٹھتا ہے
جو صدائے اذاں سے اُٹھتا ہے
جب درِ مہوشاں سے اُٹھتا ہے
چین دل کے جہاں سے اُٹھتا ہے
دل کی اب راکھ بھی نہیں باقی
"یہ دھواں سا کہاں سے اُٹھتاہے"
خواب دیتے ہیں جب کبھی مہمیز
ولولہ قلب و جاں سے اُٹھتا ہے
تو نے بخشا ہے جو مقام اسے
آئنہ کب وہاں سے اُٹھتا ہے
بات سنتے نہ بات کہتے ہیں
دل ہی کوئے بتاں سے اُٹھتا ہے
دھیان آتے ہی اس پری وش کا
درد کیوں جسم و جاں سے اُٹھتا ہے
مہرباں ہے کہ پیار ہے مجھ سے
پردہ رازِ نہاں سے اُٹھتا ہے
جس کی خاموشیاں قیامت ہوں
حشر اس کے بیاں سے اُٹھتا ہے
دل پہ لے کر گلاب زخم فصیحؔ
محفلِ دوستاں سے اُٹھتا ہے









